خرم گاہ

قسم کلام: اسم ظرف مکان

معنی

١ - شاداب گاہ۔  مینا کی خرم گاہ پر جب لگ سورج ڈھالے کنچن یا رب تلک عشرت اچھو اس داد یک دادار کا      ( ١٦٦٥ء، علی نامہ، ١٤١ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'خرم' کے ساتھ فارسی لاحقہ ظرفیت 'گاہ' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٦٥ء میں "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مؤنث